سعودی عرب اور چین کثیر قطبی دنیا کے اہم ممالک ہیں، چینی عہدیدار

ریاض (نمائندہ خصوصی) ایک چینی عہدیدار نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ ان کے ملک کے تعلقات کو فروغ دینا بیجنگ کی خارجہ پالیسی کی کلیدی ترجیح ہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق ریاض میں چینی سفارت خانے کے مشیر مائی جیان نے کہا کہ دونوں ملکوں کی قیادت نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے عناصر کو سعودی ویژن 2030 کے ساتھ انضمام کے ذریعے اپنے دوطرفہ تعلقات میں نتیجہ خیز نتائج حاصل کیے ہیں۔ایک مشترکہ میڈیا انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور چین کثیر قطبی دنیا میں دو بڑے ممالک کی نمائندگی کرتے ہیں اور وہ مستقبل کی تعمیر کے لیے وفادار شراکت دار کے طور پر مل کر کام کر رہے ہیں۔
چینی مشیر نے مزید کہا کہ دونوں ملکوں نے عملی تعاون میں ثمر آور نتائج حاصل کیے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان عوام سے عوام کے تبادلے میں اضافہ ہوا ہے۔ دو طرفہ تجارت یکے بعد دیگرے 100 بلین امریکی ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔چینی مشیر نے خود کو سعودی چینی تعلقات پر بات کرنے تک محدود نہیں رکھا بلکہ مزید آگے بڑھے۔ ریاض میں اپنی تقریر کے دوران انہوں نے امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے دنیا بھر کے ممالک پر عائد تجارتی محصولات کے معاملے پر بات کی۔ می جیان نے ٹیرف کو عالمی تجارتی تنظیم کے قوانین کی خلاف ورزی کے علاوہ بنیادی اقتصادی اصولوں اور مارکیٹ کے اصولوں کی خلاف ورزی سمجھا۔ انہوں نے واشنگٹن پر الزام عائد کیا کہ وہ ٹیرف کے ذریعے موجودہ بین الاقوامی اقتصادی اور تجارتی نظام کو ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ریاض سے چینی عہدیدار کا یہ تبصرہ امریکی صدر کی جانب سے چین پر محصولات میں 145 فیصد اضافے کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔ بیجنگ نے جواب میں واشنگٹن پر اسی طرح کے محصولات عائد کرتے ہوئے امریکی درآمدات پر اپنے محصولات کو 80 فیصد سے زیادہ کر دیا ہے۔ریاض میں چین کے نئے تعینات ہونے والے نائب سفیر نے کہا ہے کہ ٹیرف لگانے کا واشنگٹن کا فیصلہ ایک “جھٹکا” تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سے عالمی اقتصادی نظام کے استحکام کو خطرہ ہے۔ چین اس کی شدید مذمت کرتا ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں