سندھ اسمبلی کا پہلا اجلاس: ہم حلف اٹھائیں گے، لوگ احتجاج کرتے رہیں، مراد علی شاہ

عام انتخابات کے بعد سندھ اسمبلی کا آج طلب کیا گیا پہلا اجلاس شروع ہوچکا ہے، جس میں نو منتخب ارکان حلف اٹھائیں گے۔چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے مراد علی شاہ کو تیسری بار صوبے کا وزیراعلیٰ بنانے کا فیصلہ کیا ہے اور انہیں وزارت اعلیٰ کا امیدوار نامزد کر دیا ہے۔پیپلز پارٹی نے سندھ اسمبلی میں اسپیکر کے لیے اویس شاہ جبکہ نوید انتھونی کو ڈپٹی اسپیکر نامزد کرنے کا اعلان کیا ہے۔سندھ اسمبلی کے ایوان کے لئے 130 جنرل نشستوں پر ارکان منتخب ہوتے ہیں ، جس کے بعد مخصوص نشستیں کا کوٹہ نکالا جاتا ہے، اس طرح سندھ اسمبلی کے ایوان میں 29خواتین جبکہ 9 اقلیتوں کی نشستوں کا اضافہ ہوتا ہے اور کُل ایوان 168 پر مشتمل ہوگا۔سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی نے خواتین کی 20 اور اقلیتوں کی 6 مخصوص نشستیں حاصل کی ہیں جس کے بعد پیپلز پارٹی کے ارکان صوبائی اسمبلی کی تعداد 114 ہوگئی ہے۔ ایم کیوایم ارکان کی تعداد 36 تک پہنچ گئی ہے جبکہ جی ڈی اے کے 3 ارکان ہیں۔ الیکشن کمیشن نےخواتین کی 2 اوراقلیتوں کی ایک سیٹ پرنوٹیفکیشن روکا ہوا ہے، سندھ اسمبلی میں 9 آزادارکان نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت کی درخواست الیکشن کمیشن کو دی ہے۔
آج کے اجلاس میں جی ڈی اے اورجماعت اسلامی کے ارکان حلف نہیں اٹھائیں گے جبکہ پی ٹی آئی حمایت یافتہ ایم پی اے بھی آج اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے۔اس موقع پر گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس، جماعت اسلامی اور جمیعت علما اسلام کی جانب سے سندھ اسمبلی کے باہر دھرنا دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔دوسری جانب محکمہ داخلہ سندھ نے سندھ اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر سکیورٹی خدشات کے پیش نظر کراچی کے ریڈ زون میں ایک ماہ کیلئے دفعہ 144 نافذ کردی ہے۔سندھ اسمبلی کے افتتاحی اجلاس اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے دھرنے کے اعلان کے بعد ریڈ زون میں دفعہ 144 نافذ کر کے پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے سندھ میں وزارت اعلیٰ کے نامزد امیدوار مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ہم حلف اٹھائیں گے، لوگ احتجاج کرتے رہیں۔سندھ اسمبلی پہنچنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ پیپلز پارٹی کو کتنی سیٹیں ملیں گی۔مراد علی شاہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے سوچ سے بڑھ کر نشستیں حاصل کیں، پاکستان میں مسائل بہت ہیں جنہیں مل کر حل کریں گے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں