ویساک ڈے 2025 قدیم کوریائی راہب ہائیچو کے گندھارا کے سفر پر گول میز مذاکرہ اور کتاب کی رونمائی کے ساتھ منایا گیا

اسلام آباد (زاہد یعقوب خواجہ) یوم ویساک 2025 کی خوشی میں، کوریائی راہب ہائیچو کے گندھارا کے سفر پر گول میز مذاکرہ اور کتاب کی رونمائی منعقد ہوئی جو پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن (پی ٹی ڈی سی) کی جانب سے سلک روڈ سینٹر اور کول ڈوٹ – کے اشتراک سے کوہسار بلاک، پاک سیکرٹریٹ منعقد ہو ئی جس میں اسکالرز، سرکاری حکام اور ثقافتی شراکت داروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔یہ اجتماع گندھارا کلچر اینڈ ٹورازم فیسٹیول 2025 کے تحت ایک اہم ثقافتی سنگ میل کی نشانی بن گیا، جو بدھ مت کے ورثہ کے تحفظ اور جمہوریہ کوریا کے ساتھ تاریخی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
تقریب کی خاص بات ڈاکٹر محمد اقبال چاولہ کے ساتھ ڈاکٹر کیوسون پارک (ایستھر) کی تصنیف کردہ کتاب ”ٹریسنگ دی جرنی آف دی اینشیئٹ کورین مانک ہائیچو” کی باضابطہ رونمائی تھی۔ اس کتاب میں مانک ہائیچو کے روحانی سفر کو بیان کیا گیا ہے، جس نے 8ویں صدی میں کوریا سے گندھارا کے علاقے کا سفر کیا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان بدھ مت کی مشترکہ وراثت کا پتہ چلتا ہے۔
پی ٹی ڈی سی کے منیجنگ ڈائریکٹر آفتاب الرحمان رانا نے اپنے خیرمقدمی کلمات میں ڈاکٹر کیسون پارک اور ڈاکٹر محمد اقبال چاولہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب پاکستان میں بدھ مت کے ورثے اور مذہبی سیاحت کے فروغ میں بڑی مددگار ثابت ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ’یہ اقدام گندھارا کے ورثے اور ثقافت کو عالمی سطح پر فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ پی ٹی ڈی سی گندھارا بدھ مت ورثے کو فروغ دینے کے لیے پہلے ہی مختلف منصوبوں پر سرگرم عمل ہے، اور یہ کتاب ہماری اجتماعی کوششوں میں قابل قدر گہرائی کا اضافہ کرتی ہے۔ ایسے اقدامات قدیم بدھ ثقافت کے مرکز کے طور پر پاکستان کی پوزیشن کو مضبوط کرتے ہیں اور ثقافتی فروغ کو فروغ دیتے ہیں۔
گول میز کے مقررین جن میں مصنف ڈاکٹر کیوسون پارک، سلک روڈ سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر اجلال حسین، گندھارا آرٹ اینڈ کلچر ایسوسی ایشن کے چیئرمین عمران مسعود اور آئی ڈاٹ کول کے سی ای او محمد حسن نے گندھارا کی بے پناہ اقتصادی اور ثقافتی صلاحیتوں پر روشنی ڈالی .ڈاکٹر اجلال حسین نے کہا کہ گندھارا ثقافتی اور مذہبی سیاحت کو فروغ دینے کا غیر معمولی موقع ہے۔ اس کی انمول میراث ایسی صلاحیت فراہم کرتی ہے جس کا بہت سی قومیں صرف خواب ہی دیکھتی ہیں۔ گندھارا کو قومی ترجیح بنا کر، ہم نہ صرف اقتصادی خوشحالی کو کھول سکتے ہیں بلکہ پاکستان کے عالمی تعلقات کو بھی مضبوط کر سکتے ہیں۔ یہ کوئی خیالی بات نہیں بلکہ، یہ ایک ایسا مقصد ہے جو پاکستان کو خود انحصاری کی طرف لے جا سکتا ہے۔ آیئے ہم گندھارا کے بھرپور ورثہ کو شوقیہ قبول کریں اورسرکاری اور نجی یعنی دونوں شعبے ایک روشن، مضبوط اور زیادہ خوشحال پاکستان کے لئے ایک ساتھ مل کر کام کریں۔
مصنف ڈاکٹر کیوسون پارک نے کہا کہ ”میرے لیے مانک ہائیچو کے نقش قدم پر واپس جانا ایک گہرا ذاتی اور پیشہ ورانہ سفر تھا۔ یہ ریکارڈ نہ صرف بدھ مت کی ثقافت کے بارے میں ہے، بلکہ 8ویں صدی عیسوی میں دنیا کے اس حصے کی تاریخ، طرز زندگی اور قدرتی ماحول کو بھی دیکھتا ہے۔ اس کام کا مقصد جدید قارئین کو دوبارہ جوڑنا ہے۔ دوسرے ممالک گندھارا میں دلچسپی کے ساتھ ہائچو کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اور گندھارا کو بدھ متوں کے لیے ایک زیارت گاہ کے طور پر فروغ دینے میں مدد کر سکتے ہیں۔
مزید برآں آئی ڈاٹ کول کے سی ای او محمد حسن نے کہا کہ ”ویساک ڈے کاگول میزمذاکرہ اور کتاب کی رونمائی اس سال اکتوبر میں ہونے والے گندھارا کلچر اینڈ ٹورازم فیسٹیول (جی سی ٹی ایف) سے متعلق تقریبات کے سلسلے کا آغاز ہے۔ جی سی ٹی ایف بڑا اہم اقدام ہے جس کا مقصد پاکستان کو گندھارا کے ورثے کے نگہبان کے طور پر قائم کرنا اور بین الاقوامی زائرین کے لیے اہم سیاحتی مقام بنانا ہے۔

100% LikesVS
0% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں