ایکو سمٹ میں پاکستان کی سیاحت سفارتکاری کو فروغ، وزیرِاعظم کے کوآرڈینیٹر سردار یاسر الیاس خان نمایاں کردار کے ساتھ پیش پیش

شوشا، آذربائیجان (نمائندہ خصوصی): پاکستان نے اکنامک کوآپریشن آرگنائزیشن (ECO) کے شوشا میں منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں علاقائی سیاحت کے فروغ اور سرمایہ کاری کے لیے اپنی حکمتِ عملی کو بھرپور انداز میں پیش کیا، جہاں وزیرِاعظم کے کوآرڈینیٹر برائے سیاحت سردار یاسر الیاس خان نے کلیدی کردار ادا کیا۔ شوشا کو ECO ٹورازم کیپیٹل 2026 قرار دیے جانے کے موقع پر منعقدہ اس کانفرنس میں سردار یاسر نے سیاحت کو محض ایک معاشی شعبہ نہیں بلکہ علاقائی روابط، معاشی استحکام اور سفارتی اثر و رسوخ کا اہم ذریعہ قرار دیا۔
ترکی، ایران، قازقستان اور ازبکستان سمیت رکن ممالک کے اعلیٰ حکام کی شرکت سے ہونے والی اس کانفرنس میں سرحد پار سیاحت کے فروغ اور پائیدار ترقی پر غور کیا گیا۔ اس موقع پر پاکستان کی پیشکش جامع، اعداد و شمار پر مبنی اور مستقبل کی حکمتِ عملی سے ہم آہنگ قرار دی گئی۔ اپنے کلیدی خطاب میں سردار یاسر الیاس خان نے آئندہ دہائی میں پاکستان کی سیاحت کو وسعت دینے کے لیے اصلاحات پر مبنی روڈ میپ پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ سیاحت کا شعبہ اس وقت سالانہ تقریباً 10 فیصد کی شرح سے ترقی کر رہا ہے اور 47 لاکھ افراد کو روزگار فراہم کر رہا ہے، جبکہ آئندہ برسوں میں یہ تعداد بڑھ کر 80 لاکھ تک پہنچنے اور مجموعی قومی پیداوار میں 40 ارب ڈالر تک حصہ ڈالنے کی توقع ہے۔
انہوں نے ECO ممالک اور نجی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سیاحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے انفراسٹرکچر، ہوٹلز اور مختلف اقسام کی سیاحت، بشمول مذہبی، طبی اور ایڈونچر ٹورازم میں مواقع کی نشاندہی کی۔ سردار یاسر نے شینگن طرز پر ایک مشترکہ علاقائی ویزا نظام کی تجویز بھی پیش کی، جسے علاقائی سیاحت اور معاشی انضمام کے فروغ کے لیے اہم قدم قرار دیا گیا۔
پاکستان میں بہتر ہوتی رسائی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ملک میں پانچ بین الاقوامی اور پندرہ مقامی ہوائی اڈے، بارہ ہزار کلومیٹر سے زائد موٹرویز اور وسیع ریلوے نیٹ ورک موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، بشمول 5G سروسز کی توسیع، پاکستان کو ایک مسابقتی اور سرمایہ کار دوست سیاحتی مرکز بنانے میں مدد دے رہی ہے۔
کانفرنس کے موقع پر پاکستان نے ثقافتی سفارتکاری کو بھی مؤثر انداز میں استعمال کیا۔ روایتی کھانوں جیسے بریانی، نہاری اور سیخ کباب کی نمائش کے ذریعے مندوبین کو پاکستانی ثقافت اور ورثے سے روشناس کرایا گیا۔ اجلاس کے موقع پر سردار یاسر الیاس خان نے ترکی، قازقستان اور ازبکستان کے سیاحتی حکام سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کیں، جن میں مشترکہ روڈ شوز، مہمان نوازی کے تبادلہ پروگرامز اور تعلیمی و صنعتی شراکت داری کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
انہوں نے ان ممالک سے پاکستان آنے والے سیاحوں کی تعداد بڑھانے پر بھی زور دیا، خصوصاً ان ممالک سے جہاں براہِ راست پروازیں دستیاب ہیں۔ پاکستان 2027 میں لاہور اور اسلام آباد میں ECO سے متعلقہ تقریبات کی میزبانی بھی کرے گا، جس کے لیے سردار یاسر نے رکن ممالک کو باضابطہ دعوت دی۔ ماہرین کے مطابق شوشا اجلاس میں پاکستان کی شرکت واضح پالیسی، مضبوط حکمتِ عملی اور مؤثر سفارتی پیغام کے باعث نمایاں رہی، جس میں سردار یاسر الیاس خان نے پاکستان کو سیاحت کے شعبے میں ایک ابھرتی ہوئی علاقائی قوت کے طور پر پیش کیا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں