پسماندہ علاقوں میں ڈیجیٹل انقلاب، یو ایس ایف اور جاز کے درمیان 1.16 ارب روپے کے معاہدوں پر دستخط
اسلام آباد (زاہد یعقوب خواجہ) :وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن محترمہ شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ حکومت ملک بھر میں ڈیجیٹل تفریق کو ختم کرنے اور دور دراز علاقوں کو تیز ترین انٹرنیٹ سے منسلک کرنے کیلئے ہمہ وقت کوشاں ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزارتِ آئی ٹی کے ذیلی ادارے یونیورسل سروس فنڈ اور جاز کے مابین براڈ بینڈ سروسز کے منصوبوں پر دستخط کی تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی کیا۔
تقریب میں یو ایس ایف کے چیف ایگزیکٹیو آفیسرچوہدری مدثر نوید اور جاز کے چیف ایگزیکٹیو عامر ابراہیم نے معاہدوں پر دستخط کیئے، جس کے تحت پنجاب اور خیبرپختونخوا کے 9 اضلاع میں ہائی اسپیڈ براڈ بینڈ کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ چوہدری مدثر نوید نے یو ایس ایف کی کارکردگی کے حوالے سے تقریب کے شرکاء کو مفصل آگاہ کیا جبکہ عامر ابراہیم نے براڈ بینڈ سروسز کے پھیلاؤ کو وقت کی ضرورت قرار دیا۔
وفاقی وزیر شزہ فاطمہ خواجہ نے بتایا کہ ایک ارب 16 کروڑ روپے کی لاگت سے 4 بڑے منصوبوں کا اجراء کیا جا رہا ہے۔ ان منصوبوں سے پنجاب کے اضلاع چنیوٹ، اٹک، سرگودھا، خوشاب، بہاولنگر، فیصل آباد، شیخوپورہ، حافظ آباد اور خیبرپختونخوا کے ضلع ایبٹ آباد سمیت 9 اضلاع مستفید ہوں گے۔ ان منصوبوں کے ذریعے 203 پسماندہ دیہاتوں ( موضع) کے تقریباً 5 لاکھ 33 ہزار افراد کو ہائی اسپیڈ کنیکٹیویٹی اور وائس سروسز میسر آئیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ تمام منصوبے 6 سے 18 ماہ کی مختصر مدت میں مکمل کیے جائیں گے۔
وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن نے مزید کہا کہ کنیکٹیویٹی کے مسائل مستقل بنیادوں پر حل کرنے کے لیے اسپیکٹرم میں اضافہ اور فائیو جی (5G) سروسز کے آغاز کا عمل آخری مراحل میں ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ 6 ماہ کے دوران یو ایس ایف کے تحت 20 ارب 54 کروڑ روپے سے زائد کے نئے منصوبے منظور کیے گئے ہیں تاکہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔ جبکہ سندھ اور بلوچستان کیلئے بھی 6 منصوبے اس عمل کا حصہ ہیں اور جلد ہی ہم دیگر صوبوں میں بھی پراجیکٹس اجراء کی تقاریب کا انعقاد کریں گے۔
شزہ فاطمہ خواجہ نے یو ایس ایف کی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ ادارے نے اپنے قیام سے اب تک مجموعی طور پر 136 ارب 70 کروڑ روپے سے زائد کے منصوبے جاری کیے ہیں۔ ان میں 95 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد کی لاگت کے براڈ بینڈ سروسز کے 107 منصوبے شامل ہیں، جن میں سے 94 منصوبے مکمل ہو چکے ہیں۔ ان کوششوں کے نتیجے میں پسماندہ اور دیہی علاقوں کے 3 کروڑ 94 لاکھ افراد ڈیجیٹل دنیا سے منسلک ہو چکے ہیں۔
مزید برآں، 2 ہزار 585 کلومیٹر طویل موٹرویز اور نیشنل ہائی ویز پر کنیکٹیویٹی فراہم کی جا چکی ہے، جبکہ 41 ارب 43 کروڑ روپے کی لاگت سے 19 ہزار 169 کلومیٹر طویل آپٹیکل فائبر کیبل بچھانے کے 28 منصوبے شروع کیے گئے ہیں۔ تقریب کے آخر میں وفاقی وزیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت نجی شعبے کے اشتراک سے پاکستان کو ایک مکمل “ڈیجیٹل نیشن” بنانے کی جانب تیزی سے پیش قدمی جاری رکھے گی۔












